رویت ہلال کی اہمیت وضرورت
نویسنده : وزیر عباس حیدری مظفرنگری
کتب ادعیہ میں ائمہ سے منسوب چاند دیکھنے کی مخصوص دعائیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رویت ہلال (چانددیکھنا) دین اسلام کی اہم ضرورت ہے ، ہر مہینے چاند دیکھنا ثواب ہے اگر یہ امر بے اہمیت ہوتا اور اس کی کوئی ضرورت نہ ہوتی تو ائمہ رویت ہلال کے وقت دعائوں کا اہتمام نہ کرتے، چاند دیکھتے وقت دعائوں کا پڑھنا روح انسان میں تازگی اور احساسات کی تکمیل کا باعث ہے، اسے دیکھنے سے قلبی سرورواطمینان حاصل ہوتا ہے، اس وقت کی دعائیں مستجاب ہیں،دنیوی آفات وبلایا سے چھٹکارا ملتاہے اسی لئے اسلام نے اسے اپنے اہم امور میں شامل کیا ہے۔
عام لوگوں کا خیال ہے کہ رویت ہلال کا اہتمام رمضان وشوال ہی سے مخصوص ہے دیگر مہینوں میں اس کی کوئی ضرورت نہیں جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ دوسرے مہینوں میں بھی خاطر خواہ مناسبات پائی جاتی ہے جن کے لئے قمری تاریخ کا معین ومقرر ہونا ضروری ہے مثلاً : رجب کے مہینے میں ایام البیض کی مناسبت سے ١٣،١٤،١٥، تاریخ میں اعتکاف کرنااور اس کے مخصوص اعمال بجالانا،ائمہ کی ولادت وشہادت کے موقع پر مخصوص اعمال کا انجام دینا وغیرہ۔
ہاں! اتنا ضرور ہے کہ رمضان و شوال کی طرح پہلی ہی تاریخ میں مہینے کا پہلادن معین ہونالازمی نہیں ہے بلکہ اگرمناسبت یا ضرورت کے وقت تک معین ہوجائے تو کافی ہے ۔
رمضان و شوال کی پہلی تاریخ میں مہینے کا پہلادن معین ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اگر رمضان وشوال کی پہلی تاریخ میں پہلا دن معین نہ ہو تو مکلف کا برخلاف شریعت اعمال انجام دینے کا اندیشہ ہے۔
مثلاً:اگر چاند دیکھنے یاوہ ذرائع جن کے استعمال سے پہلی تاریخ ثابت ہوسکتی تھی لا پرواہی برتے اور رمضان کی پہلی تاریخ معین نہ ہوسکے جبکہ درحقیقت پہلی تاریخ ہوچکی ہو تو اس صورت میں خدا کے حکم کی مخالفت ہوجائے گی کیونکہ اس نے حکم دیا ہے کہ رمضان کی پہلی ہی تاریخ سے روزے رکھے جائیں لیکن تاریخ معین نہ ہونے کی صورت میں اس پر عمل نہ ہوسکے گا ۔
اسی طرح شوال المکرم(عیدالفطر) کی پہلی تاریخ کا مقرر ہونا اشد ضروری ہے اگر مقرر نہ ہوئی تو ہوسکتا ہے کہ رمضان کے ایام میں عید الفطرکے اعمال انجام دیدئے جائیں اور عید الفطر کے دن روزہ رکھ لیا جائے جبکہ یہ دونوں چیزیں حرام ہیں اور خدا وند عالم کی نا فرمانی ہے لہذا اپنی استعداد اور قوت کے اعتبار سے رویت ہلال کے سلسلہ میں سعی وکوشش کی جائے تا کہ خدا کے بتائے ہوئے احکام کو صحیح طریقہ اور صحیح وقت پر انجام دیا جاسکے اور اپنے کو ''کتب علیکم الصیام...وجعلتہ للمسلمین عیدا...'' کے سانچے میں ڈھال سکیں۔
جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ رمضان کا چاند دیکھنے میں نہایت سردمہری کا مظاہرہ ہوتا ہے ،اکادکاشخص سعی وکوشش کرتا ہے وگرنہ اکثریت اس سلسلے میں لاپرواہی برتتی ہے جو قطعاًخدا سے بے تعلقی کا ثبوت ہے کیونکہ اگر کوئی عام انسان آپ کو اپنے یہاں مدعو کرے تو آپ مقررہ دن کا بڑی بے صبری سے انتظارکرتے ہیںجبکہ رمضان کاچاند خود مالک کائنات خداوندمنان کے یہاں مدعوہونے کا پیغام دے رہا ہے، رسول اسلام ۖ اس مہینے کے احترام کی خاطر شعبان کے آخری ہفتے ہی میں لوگوں کو رمضان کی آمدسے آگا ہ کرتے ہیںاور اس کی رحمتوں ،برکتوں اور نعمتوں سے باخبر کرتے ہوئے ہیں رماتے ہیں:
اَیُّہَاالنَّاسُ: اِنَّہُ قَدْ اَقْبَلَ اِلَیْکُمْ شَہْرُ اللّٰہِ بِالْبَرَکَةِ وَالرَّ حْمَةِ َوالْمَغْفَرَةِ،شَہْرُ ہُوَعِنْدَ اللّٰہِ اَفْضَلُ الشُّہُو روَاَیَّامُہُ اَفْضَلُ الاَ یَّام وَ لَیَا لِیْہِ اَفْضَلُ اللَّیَا لِی وَسَا عَا تُہُ اَفْضَلُ السَّاعَاتِ ہُوَشَہْرُ دعیتم فیہ الی ضیافة اللّٰہ ...
اے لو گوں تم اللہ کے اس مہینے سے روبروہوجو بر کتوں ،رحمتوںاور بخششوں والاہے ۔رمضان وہ مہینہ ہے جو خداکے نزدیک تمام مہینوں سے افضل ہے نیز اس کے دن تمام دنوں سے ، اس کی راتیں تمام راتوں سے اور اس کی ساعات تمام ساعتوں سے افضل ہیں رمضان وہ مہینہ ہے جس میں تمام لوگ اللہ کے مہمان ہیں۔
یہ اللہ کا مہینہ ہے اس نے بندوں کو اپنی بارگاہ میں خصوصی طورسے دعوت دی ہے اس مہینے کو ان کے مال و دولت ، تجارت ، کاروبار، اولاد اور ہر نیک کام میں برکت کا سبب قرار دیاہے۔
میزبان یہی چاہتا ہے کہ مہمان کو کسی بھی طر ح کی کوئی اذیت وپریشانی نہ ہو اسی لئے خدا نے اس کو اپنی بارگا ہ میں مکرم قرار دیاہے ،اس کی دعائیںقبول ہونے کی ضمانت لی ہے ،اس کے اٹھنے بیٹھنے ،کھانے پینے،سانس لینے کو عباد ت شمار کیاہے ۔
لہذااگر توجہ کی جائے تو رمضان کاچاند دیکھنا خدا سے زیادہ لگائوہونااوراس کی قربت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نیزاس کے یہاں مہمان ہونے کا والہانہ اشتیاق اطاعت و فرمانبرداری کاکھلاثبوت ہے ۔
تو پھر اس کی کیا وجوہات ہیں کہ جب خدا وندمتعال اپنے یہاں مہمان ہونے کی دعوت دیتا ہے تو بڑے مایوسانہ شکستہ قلبی کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیںاور جب وہ خود منسوب مہینے سے رخصت کرتا ہے تو نہایت دھوم دھام سے خوشیاںمناتے ہیں،ہفتوں ملبوسات کی تیاریوں میں گذر جاتے ہیں،گھروں کو سجایا جاتا ہے ، راستوںا ورگذرگاہوںکو صاف کیا جاتا ہے ۔
اگرچہ یہ تمام چیزیںصحیح ہیںلیکن اس وقت صحیح ہیں جب اس کی میزبانی میں مہمان ہونے کے مکمل قوانین پر عمل کیا جائے ، اس کے بتائے ہوئے احکام کو انجام دیا جائے ، خواہ وہ نماز وروزہ ہو یا اپنے جان و مال سے غریبوں کی مدد،یتیموں کی دستگیری ہو یا نیازمندوں کے لئے خیر خواہی ۔
عید کے دن اس کے علاوہ کوئی مناسبت نہیں ہے کہ یہ دن وہ با عظمت دن ہے جس دن خدا کے خاص اور پیروکار بندے اس کی ضیافت سے لطف اندوز ہوکر ایک جگہ جمع ہوں تاکہ اس کی عطاکردہ نعمتوں،برکتوں اور رحمتوں کا شکریہ ادا کرسکیںاورایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرسکیں کہ اس مہینے کو خدا کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہوئے طے کرلیا ہے
یعنی غریبوں کی مدد کی ہے ، ضعیفوں سے ہمدردی کا اظہار اور بے سہارالوگوںکو سہارا دیا ہے، اب اس چیز کا احساس ہوچکا ہے کہ غریب لوگ فاقوں میں کس طرح زندگی گزارتے ہیں ؟
تشنگی کیا چیز ہے؟
بھوک مری کیا بلا ء ہے ؟
احادیث سے اس مطلب کی تصدیق ہوتی ہے:
انما فرض اللّٰہ الصیام لیستوی بہ الغنی والفقیر وذلک ان الغنی لم یکن لیجد الجوع فیرحم الفقیر ، وان الغنی کلما اراداشیئا قدر علیہ ، فاراد اللّٰہ تعالی ان یسوی بین خلقہ ، وان یذیق الغنی مس الجوع والا لَم، لیرق علی الضعیف ویرحم الجائع(١)
روزہ کو اس لئے واجب قرار دیا ہے تاکہ امیر وغریب کے درمیان مساوات برقرار ہوجائے ،مالدار وسرمایہ دار بھوک وپیاس کا مزہ چکھیں اور فقیروں کا حق ادا کریں چونکہ صاحب ثروت لوگوں کے لئے دلخواہ چیزیں فراہم ہیں توخدا چاہتا ہے کہ بندوں کے درمیان مساوات ہو اور ان کوبھی بھوک و پیاس کا مزہ چکھائے تاکہ وہ لوگ ضعیف اور کمزور لوگوںپر رحم کریں ۔
………………………
١۔وسائل الشیعہ ج٧ باب اول کتاب صوم ص٣