سود کا لین دین

نویسنده : وزیر عباس حیدری مظفرنگری

سود... یعنی رباکی علماء وفقہاء نے بہت سی تعریفیں کی ہیں لیکن ہر تعریف میں کوئی نہ کوئی خدشہ پایا جاتا ہے سب سے جامع تعریف شہید ثانی نے اپنی کتاب مسالک میں کی ہے، ان کی اس طویل وعریض تعریف میں (بیع احدالمتماثلین...)سے رباء بیعی اور معاوضی ۔(اواقتراض احدہا مع الزیادة...) سے رباء قرضی ۔ اور (وبالآخرمع زیادة فی احدہا حقیقة...) سے نوع منفعت یعنی منفعت عینی اور حکمی مراد ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ:
 ربامنفعت کے اس حصول کو کہا جاتا ہے جو ایسی دوہم جنس چیزوںکے ذریعہ جوناپ وتول میں آسکتی ہوں خرید وفروش کرکے حاصل ہو او ر قرض میں یہ منفعت کا حصول بطور عموم یعنی بغیر کسی قیدوبند کے پایا جاتا ہواسی کو سود کہتے ہیں۔
 لغت عرب میں ربا (یا) ربوا، زیادہ ہونے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جب ربابغیر واؤ کے بولاجاتا ہے تو اس کے واو کو، الف ،سے بدل لیاجاتا ہے، ربیبہ اورربیب اسی سے مشتق ہیں جو سوتیلی لڑکی اور سوتیلے لڑکے کے لئے بولے جاتے ہیں چونکہ یہ بیوی یاباپ کی جانب سے زائد والے خانے میں شمار ہوتے ہیں لہذا ان کو ربیبہ یاربیب کہتے ہیں۔ایسے ہی ربا کثرت عدداورارتفاع و بلندی کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ۔
 
مثلا:
ربا  (وانزلنا علیھا الماء اھتزت وربت ) اور (ان تکون امة ہی اربی من امہ ) میں کثرت عدد اور (فاخذہم اخذة رابیة )میں زیادہ ہونے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

سود کی دو قسمیں ہیںاوردونوں حرام ہیں:
١)   قرض مرابحہ :  سود پر قرض لینا اور سود پر قرض دینا
٢)   ناپ تول والی دوہم جنس چیز وں میں سود لینا خواہ وہ سود لینا بطور معاملہ ہو یا معاوضہ ،معوض کی جانب سے ہو یا معوض عنہ کی طرف سے ثمن(قیمت)کے اعتبار سے ہو یا مثمن(جس چیز کی قیمت لگائی گئی ہے) کے لحاظ سے ، خواہ معاملہ نقد ہو یا ادھار ۔
ملک مصر :   گزشتہ زمانے میںمصر سود خوری کے اعتبار سے آزاد ملک تھا فقط اتنا ضرور تھا کہ کچھ ایسے قوانین بنائے گئے جن میں سودکو محدود کردیاگیاتھا جیسا کہ ''لوخوریوس'' نے یہ قانون بنایا کہ سود اصل قیمت سے زیادہ نہ ہو ۔
روم و یونان:     یونان میں جس وقت تک ١٢ دستاویزی قوانین تیار نہیں ہوئے تھے اس وقت تک رباء یاسود بغیر قیدوبندکے عام طورپر رائج تھا یہاں تک کہ جب قرض دار اس کے اداکرنے پر قادر نہیں ہوتا تھا توقرض دینے والا اس کو غلام بنالیا کرتا تھا۔
 لیکن جب  ''سالون'' نے قوانین کی یہ ١٢ عدد دستاویزتیار کی توسود سے متعلق قانون بناتے ہوئے انھوںنے یہ بھی قید لگائی کہ سود کے عوض کسی کو غلام نہیں بنایا جائے گافقط اس کا مال ضبط ہوسکتا ہے یہی وجہ تھی کہ اس نے اس طرح کے تمام غلاموں کو آزادکرادیا تھا۔
عربستان :  لوگوں کی بے راہ روی سے جناب ابراہیم  کی سنت کا خاتمہ ہوگیا تھااور ان کے درمیان سود خوری جیسی غلط چیزیں رائج ہوگئیں ۔
عربوں میں رباخوری کے سلسلے میں کوئی محدودیت نہ تھی اور نہ اس کے لئے کوئی قانون تھا عرب ، عرب ساکن یہودیوں سے سودپر قرض لیتے اور اس کو اپنے درمیان زیادہ نفع پر قرض دیتے تھے ان کا طریقہ یہ تھا کہ اگر معینہ مدت تک قرض لینے والے نے اپنا قرض ادا کردیا تو کوئی مشکل سامنے نہیں آتی تھی لیکن اگر ادا نہ کیا تو اس کو دوسری مہلت بہت ہی زیادہ سود کے ساتھ دی جاتی۔
 اس سود کی مقدار قرض دینے والے پرمنحصر تھی جتنا اس کا پایہ مضبوط ہوتا اسی اعتبارسے وہ سوداور سود پر سود معین کرسکتا تھا یہی وجہ تھی کہ جو کھاتے پیتے لوگ تھے وہی زیادہ سودلیتے تھے اور غریبوں کی حالت روزبروز ابتر سے ابتر ہوتی چلی جاتی تھی۔
 مالی حیثیت سے غریبوں کے کمزور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت اصل قرض کوئی چیز یا سامان ہی ہوا کرتا تھا تھوڑی ہی مدت گزرنے کے بعد اس کی قیمت دوبرابر،تین برابر ہوجاتی تھی جو قرض لینے والے کی حیثیت سے اصلاً مطابقت نہیں کرتی تھی بالآخر غریب غلامی کے ہتھے چڑھ جاتے تھے ۔سود میںیہی تمام وجوہات اور خرابیاں ہیں کہ قرآن کے علاوہ دیگر آسمانی کتابوں میں بھی اس کی مذمت کی گئی ہے اور اس کو ناجائز جانا ہے ۔
اگرچہ موجودہ ان آسمانی کتابو ں میں تحریف کردی گئی لیکن اب بھی ان میں سود سے متعلق اس طرح تحریر ہے :
توریت:   اگرمیری قوم کے اپنے کسی پڑوسی کو تم نے قرض دیا تو اس سے سود خوار کی طرح برتائو نہ کر واور اس سے سود نہ لو (١)
انجیل لوقا :   اگر تم کسی کو قرض دو اور اس سے واپس آنے کی امید رکھو ،اس میں تمہاری کوئی فضیلت نہیں بلکہ اپنے دشمنوں سے محبت کر واور ان پر احسان کرو اور بدلہ کی امید کے بغیر ، قرض دوچونکہ اس کا اجر عظیم ہے (٢)
اگر تدبر وتفکر کے ذریعہ دیکھا جائے تو سود کی حرمت قرآن ،سنت ، اجماع اور عقل سے واضح ہے۔
قرآن:
   یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ وَذَرُوا مَا بَقِیَ مِنْ الرِّبَٰوا ِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ٭ فَِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنْ اﷲِ وَرَسُولِہِ وَِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ  رُ ُؤسُ َمْوَالِکُمْ لاَتَظْلِمُونَ وَلاَتُظْلَمُونَ(٣)
اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اورجو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑدو اگر تم صاحبان ایمان ہو۔اگر تم نے ایسا نہ کیا توگویا تم خداو رسول  ۖسے جنگ کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ اور اگر توبہ کرلو تو اصل مال تمہارا ہی ہے نہ تم ظلم کروگے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا ۔
 آیت کا سلسلہ ایمان سے شروع ہوتا ہے اور خدا و رسول  ۖسے جنگ پر تمام ہوتاہے جس کامقصد اور ہدف یہ ہے کہ سود خوری درحقیقت خدا ورسول  ۖکے خلاف اعلان بغاوت ہے جس سے توحید خداوندی اور رسالت دونوں کے تقاضے مجروح ہوجاتے ہیں ،سود انسان کے د ل سے جذبہ ٔ رحم وکرم ،لطف ومہربانی کو چھین لیتا ہے ایسے شخص کا اعتماد نہ خدا کی رزاقیت پر رہتا ہے اور نہ اس کی کرم نوازی پر۔ سود ایک اجتماعی ظلم ہے جس کانتیجہ ظلم کو برداشت کرنا بھی ہے چونکہ جب ساراسماج اور معاشرہ ظلم کاعادی بن جاتا ہے توخود ظالم کو بھی دوسر وں کا ظلم برداشت کرنا پڑتاہے۔
 سورہ ٔ بقرہ میں آیات کچھ اس طرح سے ہیں کہ پہلے صدقات کی فضیلت اور اس کا اجرو ثواب بیان کیا گیا اس کے بعدسود کوبیان کیاہے تاکہ انسان دونوںچیزوںکی طرف متوجہ رہے۔
سودمسلمانوں کو اقتصادی شکست دینے کی خاطریہودیوں کی ایجاد ہے جن کا نظریہ ہی یہ ہے کہ لوگوں کے اموال کوحاصل کرنے کا بہترین ذریعہ سود ہے چونکہ اس میں بھی منفعت ہوتی ہے جس طرح تجارت میں منفعت ہوتی ہے لہٰذا دونوں کاحکم ایک ہے۔
لیکن خدا نے قرآن مجید میں ارشادفرمایا:
 (تجارت حلال ہے اور سود حرام ہے )یہی نہیں بلکہ سود سے متعلق آیات میں سود کے بارے میںبعض اہم رونما ہونے والی چیزوں کی طرف متوجہ بھی کیا ہے ۔
مثلا:  سود اور تجارت کوحلال قراردینے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔سودخوری پر باقی رہنا خدا اور رسول  ۖسے جنگ کرنے کے ہم پلہ ہے،سودکی حرمت سے پہلے والے معاملات معاف کردئے جائیں گے۔آیت کے نزول کے بعد توبہ کرنے والوںکو اپنا اصل سرمایہ لینے کاحق ہے۔سود خوار کافراور گنا ہگارکے حکم میں ہیں۔
یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَْکُلُوا الرِّبَٰوا َضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اﷲَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (٤)
اے ایمان والوں یہ سود مرکب (سود پرسود)نہ کھائو اور اللہ سے ڈرو کہ شائد نجات پاجائو ۔
سود کی حرمت اسلام کے مسلمات میں ہے اور اس کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے سود کا ایک ایک پیسہ حرام ہے جس وقت آیت نازل ہوئی اس وقت یہ بھی واضح ہو گیا  کہ توبہ کرنا ہے تو صرف اپنا سرمایہ لے لو اور سود کی طرف رخ بھی نہ کرو تاکہ نہ تم ظلم کرو اورنہ تم پر ظلم کیا جائے ورنہ سخت ترین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا عذاب کے موقع پر کافرین کے ذکر کی طرف اشارہ ہے کہ سود خوار کے لئے کافروںجیسا عذاب ہے اور یہ سود کے بدترین عمل اور حرام ہونے کی بہترین دلیل ہے ۔ 
فَبِظُلْمٍ مِنْ الَّذِینَ ہَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ ُحِلَّتْ لَہُمْ وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیلِ اﷲِ کَثِیرًا ٭  وََخْذِہِمُ الرِّبَٰوا وَقَدْ نُہُوا عَنْہُ وََکْلِہِمْ َمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وََعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ مِنْہُمْ عَذَابًا َلِیمًا (٥)
پس ان یہودیوں کے ظلم کی بناء پر ہم نے جن پاکیزہ چیزوں کو حلال کررکھا تھاان پر حرام کردیا اور ان کے بہت سے لوگوں کو راہ خدا سے رکنے کی بناء پر، اور سود لینے کی بناپر ، جس سے انھیں روکا گیا تھا اور ناجائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے کی بنا پر، اور ہم نے کافروں کے لئے بڑا درد ناک عذاب مہیا کیا ہے۔
یہاں پر بھی یہودیوں کے جرائم اور بدکرداریوں کاذکر ہوا ہے کہ یہ انبیاء کے قاتل، عہد شکن ، منکرین آیات الٰہی ، دوسروں کا مال ہڑپ کرنے والے اور اسی طرح کے بے شمار جرائم کے مجرم ہیں ۔
 حیرت اورافسوسناک بات یہ ہے کہ آج بھی مسلمان حکمراں یہودیوں پر بھروسہ کرکے ان سے صلح کرنے کے لئے تیار ہیں یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ہر جگہ پر بالخصوص فلسطین کے مسلمانوں پر ان لوگوں کے ظلم وستم اور سفاکیت کی وجہ سے ہونے والی قتل وغارتگری کے ذریعہ شرح اموات بڑھتی جارہی ہے !!   
وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِّبًا لِیَرْبُوَا فِی َمْوَالِ النَّاسِ فَلاَیَرْبُوا عِنْدَ اﷲِ وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ زَکَاةٍ تُرِیدُونَ وَجْہَ اﷲِ فَُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُضْعِفُونَ (٦)
اور تم لوگ جوبھی سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہوجائے تو خدا کے یہاں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ہاں جو زکوٰة دیتے ہو اور اس میں رضائے خدا کا ارادہ ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کو بڑھاکر دیا جاتاہے ۔
سود معیشت کی دنیا میں سب سے بڑی مصیبت کا نام ہے جس میں غریبوں کو گرفتار کیا جاتا ہے ، سودکے ذریعہ قومیں کاہل اور مفلوج ہوجاتی ہیں معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور لوگوں کا استحصال ہوتا ہے۔
 آیت میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اس سے ظاہراً مال میں اضافہ ہوتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے مال میں کمی ہوتی ہے لیکن زکوة دینے سے مال جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے لیکن باطنی طور پر مال بڑھتا ہے گھٹتانہیں ۔ 
روایات:  
 جس طرح سے قرآن کی آیتوں کے ذریعہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ سود لینا ودینا حرام ہے اسی طرح روایات سے بھی اس کی مذمت ثابت ہے ،ملاحظہ کریں۔
(اخبث المکاسب کسب الربائ)(٧)
خبیث ترین کمائی سود کی کمائی ہے۔
(شر المکاسب کسب الربائ)(٨)
بدترین کمائی سود کی کمائی ہے۔
(من اکل الرباء ملاء اللہ بطنہ من نار جہنم )
جو شخص سود کی کمائی کھاتا ہے خدا قیامت کے دن اس کے شکم کو جہنم کی آگ سے بھردیگا ۔
(من اخذالرباء وجب علیہ القتل)(٩)
سود خور کا قتل واجب ہے ۔
اجماع :    اجماع کی ایک اعتبارسے دوقسمیں ہیں:
اجماع منقول :   خبرواحد کا حکم رکھتا ہے اور اس کی حجیت حجیت خبر واحد کے تابع ہے۔
 اجماع محصل :   مفید علم اورمفید قطع ہے۔یہی سود کی حرمت پر دلالت کرتا ہے چونکہ شیعہ اور اہلسنت علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ربا حرام ہے،یہاں تک کہ انبیاء  نے بھی اس کی حرمت کی تا ئید وتوثیق کی ہے ۔
عقل: ربا انسا ن کو پستی وذلالت کی طرف  ہنکاتاہے اور ربا خورشخص بخیل وحر یص اور مال کوجمع آوری میں اس طرح دیوانہ ہوجاتاہے کہ شیطان اس پرتسلط حاصل کرلیتا ہے اور وہ کھلم کھلا خدا کی نافرمانی کرنے لگتا ہے ۔
بالآخر سودلینے والوںاوران کے بچوں کو اقتصاد ی اعتبار سے مفلوج کردیتا ہے اور یہ لوگ سود اورسود پر سود کی ذلت سے زندگی بھر نہیں نکل پاتے یہاں تک کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کے پیروں میں غلامی کی زنجیریںپڑجاتی ہیںاوریہ  ظلم ہے اور ظلم حرام ہے۔ ربا کی حرمت دین کی ضروریات میں سے ہے جس پر قرآن وسنت میںمحکم دلیلیں ہیں لہذا سود سے بچئے اور صدقہ دینے کی عادت ڈالئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
١)توریت آیت ٢٥ باب ٢٢ سفرخروج) بنقل رباخوری، محمد مجتہد شبستری۔
٢)انجیل لوقا آیت ٣٥ ٣٢ باب٦ سفر لاویان)  بنقل رباخوری ،محمد مجتہد شبستری۔
٣)بقرہ آیت٢٧٩٢٧٨)
٤)آل عمران آیت١٣٠
٥)نساء آیت١٦١١٦٠)
 ٦)روم آیت٣٩
٧)وسائل ج٢ ص٤٢٣
 ٨)وسائل ج٢ ص٤٢٦
٩)مستدرک ج١٣ ص٣٣٤، وسائل ج١٢ ص٤٢٨