مضاربہ، معاشرے کی ضرورت

نوبسنده : وزیر عباس حیدری مظفرنگری

عربی زبان میں جوالفاظ کسی خاص جگہ یاچیزکیلئے استعمال ہوئے ہیں ان میں اس جگہ یا اس چیزسے کو ئی نہ کوئی مناسبت ضرور پائی جاتی ہے جبکہ یہ نزاکت و لطافت عربی زبان ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی دوسری زبانوں میں بھی اسی طرح کی کم وکاست نزاکت و لطافت ضرور پائی جاتی ہے ،ایسے ہی لفظ مضاربہ کے لغوی معنی اگرچہ آپس میں زدو کوب کرنے کے ہیںپھربھی اس کے یہ معنی اپنے اصطلاحی معنی سے بہت قریب ہیں۔
مضاربہ کے لغوی معنی :   مضاربہ ،ضرب ( یعنی مارنا) سے بنایا گیا ہے اور چونکہ پرانے زمانے میں مسافرکے لئے ضروری تھا کہ وہ زمین پر پیر مارے یعنی راستہ طے کرے اور اسی راستہ طے کرنے کو عربی میں ''ضرب فی الارض '' کہاجاتا ہے(یعنی اس نے زمین پر پیرمارا) عربی زبان میںیہ فقرہ سفر کرنے والے کے لئے کنایہ کے طور پر بولاجاتا ہے خواہ اس کاسفر تجارت کے لئے ہو یا کسی دوسرے کام کے لئے۔
مگر چونکہ اکثر لوگ اسی تجارت (مضاربہ )کی غرض سے سفر کرتے تھے لہذا اس تجارت کا نام مضاربہ پڑگیاجس میں عامل تلاش معاش اور سرمایہ دار اپنے سرمایہ کو تجارت میں لگانے کے لئے اِدھر اُدھر تاجروں کے پاس دوڑ دھوپ کرتا ہے اگرچہ آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ معنی اس وقت مراد لئے جاسکتے تھے جب تاجر لوگ تجارت کے لئے گھوڑے ،گدھے ، اونٹ ،خچر اور پاپیادہ سفر کرتے تھے لیکن آج جبکہ سفر کرنے کے لئے بہترین وسائل موجود ہیں،جن سے گھنٹوں میں ہزاروں میل کا سفر طے کیا جاسکتا ہے اورایک ملک سے دوسرے ملک میں سلسلہ تجارت کو آگے بڑھانے کے لئے ،ٹیلیفون ،انٹر نیٹ اورمختلف ذرائع ابلاغ فراہم ہیںتوپھر اس وقت اس لفظ کومذکورہ مطالب کے لئے کیوں استعمال کرتے ہیں؟
اس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ دور جاہلیت سے لیکر اب تک یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا چلاآرہا ہے اور اس کے اصطلاحی معنی ،لغوی معنی سے کافی حد تک مطابقت رکھتے ہیںاورچونکہ اس ترقی یافتہ دور میںبھی تجارت کی خاطر تگ ودو ، بھاگ دوڑاور دوڑدھوپ ضروری ہے لہٰذا اگر دیکھا جائے تولفظ مضاربہ آج بھی اپنے لغوی معنی میں زندہ ہے ۔
بعض جگہوں پر خصوصا حجاز اور اس کے اطراف و اکناف اور مضافاتی علاقوں میں لفظ قراض بھی مضاربہ ہی کے معنی میں رائج ہے جس کا مادہ قرض ہے اوراس کے معنی قطع کرنے کے ہیں چونکہ عامل ،ذریعہ معاش حاصل کرنے کی غرض سے راستہ قطع ( یعنی طے)کرتا ہے اورصاحب مال بھی اپنے سرمایہ سے کچھ دنوں کیلئے رابطہ قطع کرلیتا ہے اسی لئے صاحب سرمایہ کو مُقارِض ومُضارب دونوں ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔
مضاربہ کے اصطلاحی معنی:عبا رة عن دفع الانسان  مالا الی غیرہ لیتجربہ علی ان یکون الربح بینہما لا ان یکون تمام الربح  للمالک ولا ان یکون تمامہ للعامل(١)
مضاربہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو سرمایہ دے تاکہ وہ تجارت کرے اور حاصل شدہ منفعت آپس میں تقسیم کریںایسا نہیںہو سکتا کہ تمام منفعت فقط مالک یا عامل کی ہوجائے
د وسری تعریف:
وہی عقد شرعی لتجارة الانسان بمال غیرہ بحصة من الربح
(٢)مضاربہ ایک عقد شرعی ہے کہ انسان دوسرے کے مال سے تجارت کرے تاکہ سرمایہ سے فائدہ اٹھایا جا سکے ۔
نیز ابن قدامہ کتاب المغنی میں اس طرح فرتے ہیں :
ان یشترک بدن ومال وہذہ المضاربة وتسمی قراضا ایضا ومعنا ہا ان یدفع رجل مالہ الی آخر یتجر لہ فیہ علی انّ ما حصل من الربح بینہماحسب ما یشترطانہ
مضاربہ اورقراض وہ ہے جس میں ایک شخص کا سرمایہ  اور دوسرے شخص کی محنت ومشقت ہویا یہ کہ کوئی شخص کسی کو سرمایہ دے تاکہ وہ تجارت کرے اور حاصل شدہ منفعت کو طے شدہ شرط کے مطابق آپس میں تقسیم کریں۔
قارئین محترم :  اب تک مضاربہ کی جتنی بھی تعریف کی گئی ہیں ان میں مضاربہ کے تمام ارکان داخل نہیںہیں اور یہ بھی امکان ہے کہ اس کی تعریف میں بعض دوسری چیزیںجو اس سے مربوط نہیں ہے داخل ہوجائیں چونکہ اس طرح کی تمام تعریفیںشرح اسمی کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذا یہ تعریف ایسی نہیں ہے جو جامع الافراد اور مانع الاغیارہو اس کے لئے ضروری ہے کہ مذکورہ مضاربہ کے معنی ومفہوم کو ذہن نشیں کرکے اس سے متعلق دوسرے مطالب تک پہونچاجائے تا کہ مضاربہ کے صحیح معنی جاگزیں ہوسکیں۔
مضاربہ کوئی نئی ایجاد نہیں ہے بلکہ اسلام سے پہلے بھی  عوام وخواص کے درمیان تجارت، شرکت اورمضاربہ رائج تھانیزمکہ کے بیشتر افراد کا ذریعہ معاش اسی تجارت پر منحصر تھا وہ لوگ اپنا مال کسی دوسرے شخص کو تجارت کی غرض سے دیتے اور اس کی منفعت طرفین میں تقسیم کرلیا کرتے تھے ۔
اس وقت بھی یہ تجارت لوگوںکے درمیان مضاربہ کے نام ہی سے مشہور تھی اور آج کل کی طرح اس وقت بھی صاحب مال کو مضارب اور سرمایہ لیکر تجارت کرنے والے کو عامل اور ہونے والے معاملہ کو مضاربہ یا قراض کہتے تھے نیزاحتمالی خسارت صاحب مال کے ذمہ تھی جو بعض شرطوں کے تحت آج بھی صاحب مال ہی کے ذمہ ہے ۔

قریش میں اونچے پائے کے سرمایہ دارپیغمبر اسلامۖ ۖکے چچاعباس ابن عبد المطلب اپنے زیادہ ترسرمایہ کو شرکت مضاربہ اور دیگر نوع تجارت میںڈالکر اس سے استفادہ کرتے تھے ۔
کان للعباس مال مضاربةفکان یشترط أ ن لایرکبوا بحراًولا ینزلو وادیا فان فعلتم فانتم ضامنون فا بلغ ذلک رسول اﷲ فاجاز شرطہ علیھم(٣)
عباس ابن عبد المطلب اپنے سرمایہ کو مضاربہ کے طورپر تجارت میںڈالکر اس سے استفادہ کرتے  جس میں عاملین سے یہ شرط کرتے تھے کہ خطرناک اور دریائی راستوں سے سفرنہ کریںکہ جو مال کے غرق یا چوری ہونے کا سبب بن جائے اگر میرے کہنے کے بر خلاف عمل کیا اور میرے مال کو نقصان پہونچا توآپ خود ضامن ہونگے جب اسی قسم کی شرط کو رسول خدا  ۖ کے سامنے پیش کیا توآپ نے فرمایا :اس میں کوئی اشکال نہیں ہے ، عباس ابن عبد المطلب آنحضرت کے زمانے تک اس قسم کی تجارت میں مشغول تھے جس کی آپ نے تائید وتوثیق فرمائی ۔
اہل مکہ ایران ،روم شرقی ،شام ویمن کے دورودراز علاقوں میں تجارت کیلئے جاتے قرآن کی آیت ''رحلة الشتاء والصیف'' شاہد ہے کہ قریش مکہ گرمیوںمیں (شامات) اورسردیوں کے موسم میں (یمن کے علاقوں میں) سفر کرتے تھے ۔مجموعی طورپر قریش مکہ تھوک مال کی خرید وفروخت کی غرض سے سال میں یہی دوسفر کیا کرتے تھے۔
خد یجہ بنت خو یلدخو دبھی تا جرہ تھیں اور تجارت کرنے کی غر ض سے تا جروں کو اپنا مال بھی دیا کرتی تھیں چونکہ مضاربہ میں ضروی ہے کہ عا مل حساب وکتاب میں کھرا اور امانت داری میںقابل وثوق ہو لہٰذا جناب خدیجہ نے حضرت محمد مصطفےٰ  ۖکی امانتداری دیکھتے ہوئے ان کواپنا مال دیکر تجارت کرنے کی غرض سے شا مات کی طرف روانہ کیا(اس وقت فلسطین ،لبنان اردن اور شام کے علاقے  شام ہی کے نام سے پکارے جاتے تھے ) آپ نے مکہ سے خر یدا ہوا سامان شام میں اور شام سے خر ید ا ہوا سامان مکہ میں مناسب قیمتوں پر فر وخت کیا جس سے آپ کو اچھی خاصی منفعت حاصل ہوئی ۔
کتاب المفصل فی تاریخ العرب میں لکھاہے کہ حجاج بن علاط سلّمی اپنے مال کو تجارت کر نے کے لئے بطور   مضا ربہ دوسروں کے سپردکرتا تھا ۔مختصر یہ ہے کہ عرب کے دور جا ہلیت میں تین طر لقیوں پر معا ملات ہواکرتے تھے
٩  شرکت
٩   مضا ربہ
٩    سود
اگر دیکھا جائے تو مضاربہ کے بنیادی اصول وہی ہیں جو اسلا م سے پہلے تھے اسلام نے فقط اس کے قوانین و ضوابط کی وضاحت کی اور بعض شرطوں کوبیان کیاہے ۔
جس طرح فقہی معاملاتی مسائل میں بالغ وعاقل ہونا شر ط ہے اسی طرح مضار بہ کے لئے بھی شرط ہے نیز مضاربہ سے متعلق مذکورہ ذیل شرائط بعض دوسر ے عقو د ہی کی طرح ہیں جو بعض مسائل میں ایک دوسر ے کے شر یک ہیں ،جیسے:
١)   سر ما یہ گذاری کرنے والے اور تجا رت کر نے والے کا ہونا (جن کو متعا قدان کہتے ہیں) ۔
٢)  عقدکا برگزار کرنا(یہ وہ تو افق ہے جو مو ضوع سے متعلق طے پاتاہے اورمتعا قدان اس کو ایجاب و قبول کی صورت میں بیان کرتے ہیں)
متعا قدان کی شرطیں
١)  معا ملہ کو اپنے ارادہ واختیار سے انجا م دیں ۔
٢)  حکو مت نے انکو انکے مال سے ممنوع التصرف قرارنہ دیا ہو ۔
اسی طرح مضاربہ اور شرکت کے درمیان جو وجہ  اشتر اکیت پا ئی جاتی ہے وہ یہ ہے :
٩  مضاربہ میں سر ما یہ لازم ہے اور بنیادی طورپر اس کے ارکان کا ایک جزء ہے اسی طرح شرکت میں بھی سرما یہ لازم وضر وی ہے اس کے بغیرمشا رکت ممکن نہیں ۔
٩   جس طرح مضاربہ میں تجارت کی جاتی ہے اسی طرح شرکت میں بھی تجارت کی جاتی ہے
٩  جس طرح مضاربہ میںنفع ونقصان کاامکان ہے اسی طرح شر کت میں بھی امکان ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں نے مضاربہ اور شرکت کوایک فرض کرنے کے بعد مضاربہ کو شرکت کا ایک شعبہ قراردیاہے جن میںعام خاص مطلق کی وجہ نسبت پائی جاتی ہے یعنی شرکت اعم ہے اور مضاربہ اخص ہے لیکن بعض شرائط مضاربہ سے مخصوص ہیں کہ جوبعض معا ملا ت سے بالکل الگ تھلگ دکھا ئی دیتی ہیں با لخصوص شرکت سے ۔ مثلا:
١)  مضاربہ ذاتًاتو زیعی وتجاری کارکردگی کانام ہے ۔
٢)  مضاربہ میں ایک سرمایہ داردوسرا تجارت کرنے والا ہے یعنی ایک شخص کا فقط کام مضاربہ ہے۔
٣)  مضاربہ میںنقد سرما یہ اوررائج الو قت لازم ہے البتہ معتبرچیک کی صورت میں بھی امکان پذیر ہے ۔
٤)   سرمایہ کا معلوم ہونا ضروری ہے ۔
٥)  منفعت بطور مشاع ہوتی ہے (یعنی جب تک معاملہ تمام نہ ہو جائے طرفین کو منفعت کا کو ئی علم نہیں ہوتا،لیکن یہ معین ہوتاہے کہ منفعت کس طرح تقسیم ہو گی )۔
٦)  عامل کا امین ہو نا۔
٧)  ہز ینہ سفرکا صاحب مال کے ذمہ ہونا ۔
٨)  مضاربہ عقد جا ئز ہے نہ کہ عقد لازم ہاں اگر شرط لزوم پائی جائے تو لازم ہو جا ئے گا ۔
٩)  تجارت کی پیشرفت اوربھا گ دوڑ اور معاملا ت کی راہ وروش طرفین کے تو افق پر منحصر ہے ۔مثلا: تجارت فلان جگہ یا فلان شہر میں ، ادھا ر یانقدوغیرہ طریقہ پر انجام پائے گی
١٠)  تاجر کا کسی دوسر سے شخص سے اصل تجارت و کیفیت مضاربہ میںمددلینا۔
ہاں!  اگریہ مدد عرف عام سے زیادہ ہو تو طرفین کا توافق ضروری ہے وگر نہ نہیں ۔
یہ دس شر طیں مضاربہ سے مخصو ص ہیں اور تین شر طیں  شر کت اور مضاربہ میں مشتر ک ہیںاور دوشرطیں(بلو غ وعقل)  عبادت ومعا ملات دو نوںمیں مشتر ک ہیں لہٰذا اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ١٧شر طیں ہوئیں اوران کے علاوہ باقی جز ئی شر ائط بھی پیش آسکتی ہیں۔
مضاربہ میں اشتر اکیت کی مثال
مضاربہ میں ایک شخص کا سرمایہ اور دوسرے شخص کا کام ہوتا ہے یہ دونوں سرمایہ اور کا م کے اعتبار سے مشتر ک ہیں مثلا:  ٹیکسی بغیر پیڑول کے نہیں چل سکتی ،  فرض کریں ٹیکسی سرمایہ ہے اور پیڑ ول اس کو حرکت میں لاتا ہے تو جس طرح ٹیکسی بغیر پیڑول کے بیکار اور بے فائدہ ہے اسی طرح سرمایہ بغیر تجا رت کے سقم وعقیم ہے لیکن اس کے بالمقابل بہت سے ایسے کام ہیں جس میں سرمایہ کی کو ئی ضر ورت نہیں ہوتی جیسے مزدوری کرنا، یہ خود سرمایہ پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے ،روایات سے واضح ہے کہ سرمایہ بھی مستقل ہے اور کام بھی مستقل ۔
ایک شخص نے امام صادق  سے مضاربہ اور اس کے شرائط سے متعلق سو ال کیا امام نے فرمایا : عامل کو چا ہئے کہ وہ صاحب مال کی شرطو ں پر عمل کرے ۔
مثلا :  سا لتہ عن الر جل یعطی المال مضاربة (٤)
یعنی ایک شخص مال دے اور دوسر ابطو رمضار بہ اس کولے پس ایک طر ف مال دینے والاہوا اور دوسری طرف مال لینے والا جو عینًا مضاربہ ہی کی طر ح ہے ۔
اس اعتبار سے یہ بھی ضر وری نہیں کہ صاحب مال اورعامل ایک فرد ہوں بلکہ ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ تمام صاحبان مال کا سرمایہ برابر ہو بلکہ اگر کم وزیادہ بھی ہے توکو ئی اشکال نہیں بس اتنا ضرور ہے کہ جس کا سرمایہ زیادہ ہوگا اسکا نقع ونقصان بھی زیادہ ہوگا ۔
امام صادق  نے فرمایا:
''وکذلک لو کان لأحدھما من المال أکثر ممّا لصاحبہ فالرَّبح علیٰ ما اشترطا ہ والو ضیعة علیٰ کلّ واحد منھما بقدر رأس مالہ''(٥)
یعنی شرکاء میں کسی کا مال زیادہ ہو تو ہونے والا نفع ونقصان بھی اسی اعتبار سے ان کے درمیان تقسیم ہوگا ۔
مضاربہ ایک قرار دادی شرکت ہے جس میں شرط ضمن عقد میں مو ثر ہے جبکہ درعین حال شرکت سرمایہ وکام ، شرکت سرمایہ با سرمایہ وکام با کام بھی ہے اس لئے کہ عامل کام کے اعتبار سے اور سرمایہ دارسرمایہ کی وجہ سے آپس میں شریک ہیں۔ مضاربہ ایک شرکت مرکبی ہے ۔
محل تجارت : کبھی کبھی تجارت صاحب مال اور عامل کے وطن میں اورکبھی کبھی وطن سے باہر دوسرے ملکوںاور شہروں میں کی جاتی ہے جو صاحب مال کی رضایت پر منحصر ہے جس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اگر عامل، صاحب مال کی تشخیص پر کسی جگہ تجارت کرے اور اسمیں نقصان واردہو جائے تو عامل ضا من نہیں ہے لیکن اگر عامل، صاحب مال کی مخالفت کرتے ہوئے کسی معین شدہ جگہ کے علادہ دوسری جگہ تجارت کر تا ہے تو خو دعامل مقصر ہے اگر چہ معا ملہ اپنی جگہ صحیح وشرعی ہے ۔
وینہی ان یخرج بہ فخرج؟قال: علیہ السلام یضمن المال والربح بینہما (٦)
یعنی منع کیا گیا تھا کہ عامل تجارت کے لئے فلاں جگہ نہ جائے لیکن وہ چلا گیا تو اس صورت میں عامل خود ضامن ہے ۔اس اعتبار سے مضاربہ کے تین رکن ہیں :
١)   سرمایہ دار وعامل کا ہونا۔
٢)  صاحب مال کا محل تجارت معین کرنا ۔
٣)  بصورت مخا لفت عامل وضر ر،عامل کا خو د ضامن ہونا پہلی شرط میں تبدیلی ممکن نہیں لیکن بقیہ دو شر طو ں میں تبدیلی  ممکن ہے۔
مثلا:   عامل محل تجارت کی تبدیلی کے لئے پہلے سے اجازت لے لے ۔یاسر مایہ دارمعا ف کردے ۔
اسی طرح تجارت کے مال کی خریداری میں صاحب مال کو اختیار ہے اور مخا لفت کی صورت میں حکم سابق جا ری ہو گا ۔
فی رجل دفع الی رجل مالا یشتری بہ ضربا من المتاع مضاربةفذہب فاشتری  بہ غیر الذی امرہ ؟ قال : ہو ضامن والربح بینہا علی ما شرط (٧)
ایک شخص نے اپنا مال دوسرے شخص کو دیا کہ اس کے اس مال سے بطور مضاربہ تجارت کرے اس شخص نے معین شدہ شرائط کے تحت تجارت نہ کی اور اس میں اسے نقصان ہوگیا امام  نے فرمایا : عامل ، ضامن ہے اور منفعت  شرط کے مطابق تقسیم ہوگی ۔

.................................................................................
١)   مستمسک العروة الوثقی ج١٢ص٢٣٧
٢)  حدائق الناضرةج٢١ص١٩٩
٣)   المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ،ج٧ص ٤٣٤
٤)  وسائل الشیعہ ج ١٣ باب ا  ص١٨١
٥)   مستدرک الوسائل ،ج١٣ ص ٤٥٥ح ٢
٦)   وسائل الشیعہ ج١٣ باب١ ص١٨١
٧)   وسائل الشیعہ ج١٣ باب ا ص١٨٢