احتیاط

نویسنده :   وزیرعباس حیدری مظفرنگری

ہر زمانے میں انسان نے اجتماعی اور انفرادی زندگی گزارنے کے لئے کچھ قوانین وضوابط معین کئے،قبل از اسلام بھی عوام کے درمیان بعض اچھے اور بعض بے ہودہ قوانین رائج تھے،اسلام نے ان کے بے ہودہ قوانین کی مخالفت کی اور انھیںانسان ساز قوانین سے آگاہ کیا اسلام کے یہی انسان ساز قوانین ہیںجن کو شرعی احکام سے تعبیر کیا جاتا ہے اورعلم فقہ سے ان کا گہرا تعلق ہے ۔ علما اور فقہا نے جس طرح فقہی ضوابط کو بیان کیا ہے اسی طرح فقہی احکام کی ادائیگی کے لئے تین راستے معین کئے ہیں:
١.  انسان احکام کو اصلی منابع و ماخذ کے ذریعہ حاصل کرے اور ہرحکم کی تفصیلی دلیل سے آگاہ ہو یعنی یہ شخص مربوطہ منابع اور ماخذ سے نتیجہ گیری ،استنباط اور اجتہاد کرے ، جس کو اصطلاح میں مجتہد یا مرجع تقلید کہتے ہیں ۔
٢.  کسی ایسے شخص کی تقلید کرے جس میں مذکورہ بالا صلاحیت پائی جاتی ہو ، اسی کو تقلید کہتے ہیں نیزتقلید فقط واجبات ومحرمات ہی میں عمل کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ مستحبات، مکروہات اور مباحات میں بھی عمل کرنا ضروری ہے ۔   
٣.  اگر اتنی سوجھ بوجھ ہو کہ وہ احتیاط پر عمل کرسکتا ہے تو احتیاط کرے ۔
 احتیاط پر عمل کرنے کے لئے چند باتوں سے آشنائی ہونا اشد ضروری ہے فقط مبلغ علم کو اونچا کرنے کی خاطر احتیاط پر عمل کرنا کافی نہیں ہے بلکہ احتیاط وہی شخص کرسکتا ہے جو مسائل کوسمجھنے اور ان کے بارے میں تجزیہ وتحلیل کرنے کی بھرپور علمی توانائی وصلاحیت رکھتا ہوچونکہ احتیاط احکام شرعی پر اس طرح عمل کرنے کا نام ہے جس سے احتیاط کرنے والے کو پورا پورا یقین ہوجائے کہ میں نے اپنا شرعی فریضہ بدرجہ اتم انجام دیدیا ہے اور یہ یقین اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب اس میں اسے درک کرنے کی صلاحیت ہواورہر مسئلہ کی اچھی طرح تجزیہ وتحلیل کرسکتا ہو۔ 
علما نے احتیاط کے بارے میں بہت سی باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں سے چند باتیںدرج ذیل ہیں:
١.   شرعی اعتبار سے مجتہد اور غیر مجتہد دونوں کے لئے احتیاط پر عمل کرنا جائز ہے لیکن غیرمجتہد کے واسطے احتیاط پر عمل کرنے کے لئے کم ازکم اس کے محل وقوع کی شناخت اور اس کے مقام کی تشخیص ضروری ہے جس کی تشخیص دینے والے افراد بہت کم ہیںلہذا جو لوگ ان موارد کی تشخیص نہیں دے سکتے وہ لوگ احتیاط پر عمل نہیں کرسکتے ۔
٢.   بعض وقت احتیاط پر عمل کرنا تکرار عمل کا باعث ہے۔ احتیاط کرنے والا ایک عمل کو ایک یا ایک سے زیادہ مرتبہ انجام دیتا ہے ۔
 مثلاً: اگر کوئی شخص نہیں جانتا کہ نماز قصر ہے یا پوری؟ تو اسے چاہئے کہ وہ نماز کو قصربھی ادا کرے اور پوری بھی ادا کرے۔یا اگر سمت قبلہ کے بارے میں نہیں جانتا اور اس کا شک چاروں سمت کے بارے میں برابر ہے تو ہر سمت کی طرف نماز پڑھے ۔
٣.  اگر مکلف جانتا ہے کہ فلاں عمل حرام نہیں ہے لیکن نہیں جانتا کہ مستحب ہے یا مکروہ ،مباح ہے یا واجب۔قصد رجاء ''ثواب کی امید سے''انجام دے چونکہ اسی امر کے مطلوب ہونے کا احتمال ہے۔
٤.  اگر مکلف جانتا ہے کہ فلاں عمل واجب نہیں ہے لیکن نہیں جانتا کہ حرام ہے یا مکروہ ، مستحب ہے یا مباح تو اسے چاہئے کہ اسے انجام نہ دے چونکہ احتمال قوی یہی ہے کہ وہ مطلوب نہ ہو۔
مذکورہ امور کے ساتھ ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ احتیاط واجب ہے یا مستحب اور ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ فقہاکے رسالہ عملیہ میں احتیاط کی یہی دوقسمیں بیان کی گئی ہیں۔
پہلافرق:   اگر مجتہد نے کوئی فتویٰ دیا ہواور اسی میںاحتیاط بھی ہوتو یہ احتیاط،احتیاط مستحب ہے اوراگر مجتہد نے کسی مسئلہ میں فتویٰ نہ دیا ہو اور ابتداًاحتیاط کا حکم لگادیا ہو تویہ احتیاط، احتیاط واجب ہے جسے احتیاط مطلق بھی کہتے ہیں۔
احتیاط مستحب کی مثال:  اگر غسل ارتماسی کی نیت کرکے چند مرتبہ تدریجا پانی میں غوطہ لگائے تو غسل صحیح ہے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ ایک مرتبہ غوطہ لگائے ۔ یہ احتیاط،احتیاط مستحب ہے ۔
احتیاط واجب کی مثال:  احتیاط یہ ہے کہ وہ نجس چیزجو شرمگاہ کو چھپاسکتی ہو حالت نماز میں نماز پڑھنے والے کے ساتھ نہ ہو۔  یہ احتیاط،احتیاط واجب ہے چونکہ اس میں بطور مستقیم احتیاط کو بیان کیا ہے اس سے پہلے فتویٰ نہیں دیا۔
دوسرا فرق :  احتیاط مستحب میں مقلد کوچاہئے کہ اسی احتیاط یا اسی فتویٰ پر عمل کرے جواس کے ساتھ ہے اس صورت میں وہ کسی دوسرے مجتہد کی طرف رجوع نہیں کرسکتا لیکن احتیاط واجب میں وہ کسی دوسرے مجتہد '' جوکہ اعلم ہو'' کی طرف رجوع کرسکتا ہے اور اگر رجوع نہ کرے تو اسی احتیاط پر عمل کرے گاجو مفتی نے بیان کی ہے ۔