سوانح حیات حضرت آیة اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی
آپ اس وقت نجف میں رہتے ہیں اورمذہب شیعہ کے ایک عظیم پشوا ہیں۔
آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین نجفی جالندھر''مشرقی پنجاب ، بھارت'' میں ایک مذہبی خاندان کے درمیانپیدا ہوئے آپ کے دادا مولانا محمد ابراہیم اورچچا خادم حسین نے باٹا پور ، لاہور میں ںفات پائی جن کا شمار بڑے اور ممتاز شیعہ علمائے پاکستان میں ہوتا تھا ان کا خاندان ١٩٤٧ء میں ہندوستان سے باٹا پور ، پاکستان آگیا تھا باٹا پور میں اس وقت شیعہ بہت کم تھے لیکن اس خاندان کی سعی وکوشش سے شیعوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی ۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم اپنے دادا ایر چچا سے اپنے وطن ہی میں حاصل کی اس کے١٩٦١ء میں حوزہ علمیہ جامعة المنتظر لاہور میں داخلہ لیا او ر ١٩٦٥ء تک وہاں رہے ۔
وہاں رہ کر رئیس جامعہ مولانا سید اختر عباس نجفی اور شیخ صفدر حسین نجفی کسب فیض کیا ۔
پھر١٩٦٥ء میں نجف اشرف تشریف لے گئے جہاں انھوں نے عظیم شخصیتوں سے علمی فائدہ اٹھایا۔
مثلا:
آیة اللہ العظمی سید ابوالقاسم الخوئی۔
آیة اللہ العظمی سید محمد روحانی۔
آیة اللہ العظمی شیخ محمد کاظم یزدی۔
مرجعیت
آیت اللہ شیخ بشیر حسین نجفی دام ظلہ نجف میں مقیم ہیں اور اور حوزہ علمیہ نجف میں ہزاروں طلباء اور تشنگان علوم اہلبیت کو ان کے علوم سے سیراب کررہے ہیں ۔آپ نے ١٣٨٨ ھ سے با قاعدہ تدریس وتالیف کی مسئولیت اپنے کاندھوں پرسنبھال لی تھی اور آج تک بحسن وخوبی اس فریضہ کو انجام دے رہے ہیں ۔
آپ کے درس خارج میں شریک ہونے والے طلبا ء کی تعداد بے شمار ہے ،نیز درس اخلاق پر نہایت زور دیتے ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ اخلاق کا صحیح کرنا اسلام کا سب سے پہلا فریضہ ہے ۔
تالیفات
انھوں نے عربی زبان میں کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
مناسک حج
وقفة مع مقلدی الموتی
کتاب مرقا ةالاصول
الدین القیم (رسالہ عملیہ عربی)
شرح معالم الصول
شرح کفایة الاصول
تنقیح الرواة
بحث مفصل در علم درایة
شرح منظومہ حکیم سبزواری(فلسفہ)
شرح مطالب قوانین درعلم اصول
شرح بر بحث ارث از کتاب لمعہ
حاشیہ بر شرح تجرید (فلسفہ و علم کلام)
حاشیہ بر باب حادی عشر (علم کلام)
حاشیہ بر مکاسب
رسالہ عملیہ (اردو)
ان کے علاوہ بھی دیگر کتابیں تحریر وتدوین کی ہیں ۔