قیادت و مرجعیت

 

 

سوال-  اگر اجتماعی ، سیاسی اور ثقافتی مسائل میں ولی امر مسلمین اور دوسرے مرجع تقلید کے فتوے میں تعارض و اختلاف ہو تو ایسے میں مسلمانوں کا شرعی فریضہ کیا ہے ، کیا کوئی ایسی حد فاصل ہے جو ولی امر مسلمین اور مرجع کے صادر کردہ احکام میں امتیاز پید اکرسکے ؟ مثلاً اگر موسیقی کے سلسلہ میں مرجع تقلید اور ولی امر مسلمین کی آراء میں اختلاف ہو تو یہاں کس کا اتباع واجب اور کافی ہے اور عام طور پر وہ کون سے حکومتی احکام ہیں جن میں ولی امر مسلمین کا حکم مرجع تقلید کے فتوے پر ترجیح رکہتا ہے؟
جواب-  اسلامی ملک کے نظم و نسق اور مسلمانوں کے عمومی مسائل میں ولی امر مسلمین کے حکم کا اتباع کیا جائے گا اورا نفرادی مسائل میں مکلف اپنے مرجع تقلید کا اتباع کرسکتا ہے۔
سوال-  جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اصول فقہ میں ” اجتہاد متجزی “ کے عنوان سے بحث کی جاتی ہے کیا امام خمینی ۺ کا مرجعیت کو قیادت سے جدا کرنا تجزی کے تحقق کی جانب ایک قدم نہیں ہے؟
جواب-  ولی فقیہہ کی قیادت اور مرجعیت تقلید سے الگ الگ ہوجانے کا اجتہاد میں تجزی والے مسئلہ سے کوئی ربط نہیں ہے۔
سوال-  اگر میں کسی مرجع کا مقلد ہوں اور ولی امر مسلمین ظالم کافروں سے جنگ یا جہاد کا اعلان کرے اور میرا مرجع تقلید مجہے جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہ دے تو میں اس کی رائے پر عمل کروں یا نہ کروں؟
جواب-  امور عامہ میں ولی امر مسلمین کے حکم کی اطاعت واجب ہے، ان ہی امور میں اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور حملہ آور کافروں اور طاغوتوں سے جنگ بہی شامل ہے۔
سوال-  ولی فقیہہ کا حکم یا اس کا فتویٰ کس حد تک قابل عمل ہے اور اگر ولی فقیہہ کا حکم یا فتویٰ مرجع اعلم کی رائے کے خلاف ہو تو ان دونوں میں سے کس پر عمل کیا جائے گا اورکسے ترجیح دی جائے گی؟
جواب-  ولی امر مسلمین کے حکم کا اتباع تمام لوگوں پر واجب ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اختلاف کی صورت میں مرجع تقلید کے فتوے کو ولی فقیہہ کے حکم کے مقابلے میں لایا جائے۔