اجتہاد اور اعلمیت کا اثبات اور فتوی حاصل کرنے کے طریقے

 

 

سوال-  دو عادل گوہوں کی گوہی سے ایک مجتہد کی صلاحیت ثابت ہوجانے کے بعد کیا اب میرے اوپر اس سلسلہ میں کسی اور سے بہی سوال کرنا واجب ہے ؟
جواب-  کسی معین جامع الشرائط مجتہد کی صلاحیت کے اثبات کے لئے ہل خبرہ (ہل علم)حضرات میں سے دو عادل گوہوں کی گوہی پر اعتماد کافی ہے اور اس سلسلہ میں مزید افراد سے سوال کرنا ضروری نہیں ہے۔
سوال-  مرجع تقلید کے انتخاب اور اس کا فتویٰ حاصل کرنے کے کیا طریقے ہیں؟
جواب-  مرجع تقلید کے اجتہاد اور اس کی اعلمیت کے اثبات کے لئے ضروری ہے کہ یا انسان خود عالم ہو اور تحقیق کرے یا اسے علم حاصل ہوجائے چہے ایسی شہرت کے ذریعہ ہی ، جس سے یقین ہوجائے یا اطمینان حاصل ہوجائے یا ہل خبرہ میں سے دو عادل گوہی دیں۔  مرجع تقلید سے فتویٰ حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خود اس سے سنے یا دو عادل نقل کریں بلکہ ایک ہی عادل کا نقل کرنا کافی ہے یا پہر ایسے معتبر انسان کا نقل کرنا بہی کافی ہے جس کی بات پر اطمینان ہو یا اس کی توضیح المسائل میں دیکہے جو غلطیوں سے محفوظ ہو۔
سوال-  کیا مرجع کے انتخاب کے لئے وکیل بنانا صحیح ہے؟ جیسے بیٹا اپنے باپ کو اور شاگرد اپنے استاد کو اپنا وکیل بنائے؟
جواب-  اگر وکالت سے مراد جامع الشرائط مجتہد کی تحقیق کو باپ، استاد یا مربی وغیرہ کے سپرد کرنا ہے تواس میں کوئی حرج نہیں ہے، ہاں اگر اس سلسلہ میں ان کا قول یقین اور اطمینان کے قابل ہو یا اس میں دلیل وشہادت کے شرائط موجود ہوں تو ان کا قول شرعاً معتبر اور حجت ہے۔
سوال-  میں نے چند مجتہدین سے پوچہا کہ اعلم کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا فلاں شخص کی طرف رجوع کرنے سے انسان بری الذمہ ہے تو کیا میں ان کی بات پر اعتماد کرسکتا ہوں جبکہ مجہے معلوم نہیں کہ موصوف اعلم ہیں یا نہیں یا مجہے ان کے اعلم ہونے کے بارے میں احتمال ہے یا اطمینان ہے کہ وہ شخص اعلم نہیں ہے اس لئے کہ دوسرے فقہا کے بارے میں بہی مثلاً ایسی ہی شہادت اور گوہی موجود ہے؟
جواب-  جب کسی جامع الشرائط مجتہد کے اعلم ہونے پر شرعی دلیل قائم ہوجائے تو جب تک اس دلیل کے خلاف کسی اور دلیل کا علم نہ ہو وہ حجت ہے اور اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ، یقین یا اطمینان حاصل کرنا اس کے لئے شرط نہیں ہے اور نہ اس کے خلاف گوہیوں کے بارے میں تحقیق کی ضرورت ہے۔
سوال-  کیا وہ شخص شرعی احکام کے جوابات دے سکتا ہے جس کے پاس اجازہ نہیں ہے اور وہ بعض مقامات پر اشتباہ سے بہی دوچار ہوتا اور احکام کو غلط بیان کردیتا ہے اور اس حالت میں کیا کیا جائے جبکہ اس نے توضیح المسائل سے پڑہ کر مسئلہ بیان کیا ہو؟
جواب-  مجتہد کا فتویٰ نقل کرنے اور شرعی احکام بیان کرنے کے لئے اجازہ شرط نہیں ہے لیکن اگر اس سے غلطی یا اشتباہ ہوتا ہے تو اس کے لئے بیان اور نقل کرنا جائز نہیں ہے۔ اور اگر کسی ایک مسئلہ بیان کرنے میں اس سے غلطی ہوجائے اور بعد میں اس کی طرف متوجہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ سننے والے کو اس غلطی سے آگاہ کردے۔ بہر حال سننے والے کو بیان کرنے والے کی بات پر اس وقت تک عمل کرنا جائز نہیں ہے جب تک اس کے قول اور اس کی بیان کردہ بات کے صحیح ہونے پر اسے اطمینان نہ ہوجائے۔